پاکستان میں عالمی تائیکوانڈو ایونٹس کا انعقاد مثبت اسپورٹس ڈپلومیسی ہے، کرنل (ر) وسیم جنجوعہ
38 ممالک کے 869 سے زائد ایتھلیٹس اور آفیشلز کی شرکت پاکستان کی عالمی سطح کے کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کی صلاحیت کا مظہر ہے
-
پاکستان میں عالمی تائیکوانڈو ایونٹس کا انعقاد مثبت اسپورٹس ڈپلومیسی ہے، کرنل (ر) وسیم جنجوعہ
-
38 ممالک کے 869 سے زائد ایتھلیٹس اور آفیشلز کی شرکت پاکستان کی عالمی سطح کے کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کی صلاحیت کا مظہر ہے
لاہور (محمد اقبال ہارپر — چیئرمین پاکستان تائیکوانڈو یونین کرنل (ر) وسیم احمد جنجوعہ نے کہا ہے کہ آٹھواں ٹریٹ ورلڈ تائیکوانڈو پریزیڈنٹ کپ، ایشیئن ریجن پاکستان میں ایک اہم اور تاریخی کھیلوں کا ایونٹ ثابت ہوا ہے۔ 38 ممالک سے 869 سے زائد ایتھلیٹس اور آفیشلز کی شرکت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی معیار کے بین الاقوامی تائیکوانڈو مقابلوں کی کامیاب میزبانی کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اپنے ایک بیان میں کرنل (ر) وسیم احمد جنجوعہ نے کہا کہ پریزیڈنٹ کپ کے انعقاد سے نہ صرف پاکستانی کھلاڑیوں کو عالمی سطح کے باصلاحیت ایتھلیٹس کے ساتھ مقابلہ کرنے اور بین الاقوامی معیار کا قیمتی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملا بلکہ پاکستان کا مثبت، پرامن اور کھیل دوست تشخص بھی دنیا کے سامنے اجاگر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی کھلاڑیوں، کوچز اور آفیشلز کی پاکستان آمد عالمی تائیکوانڈو کمیونٹی کے پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عالمی کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد محض کھیلوں کی سرگرمی نہیں بلکہ اسپورٹس ڈپلومیسی کا بھی مؤثر ذریعہ ہے۔ ایسے ایونٹس مختلف ممالک کے کھلاڑیوں اور کھیلوں کی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتے ہیں، جس سے عوامی روابط، ثقافتی تبادلے اور پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کو بہتر بنانے کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
کرنل (ر) وسیم جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان میں تائیکوانڈو کے فروغ اور مزید بین الاقوامی ایونٹس کے انعقاد کے لیے ایشیئن تائیکوانڈو یونین بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ عالمی اور علاقائی سطح کے تائیکوانڈو مقابلوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ پاکستانی کھلاڑیوں کو بیرونِ ملک جانے کے بجائے اپنے ملک میں ہی اعلیٰ معیار کے بین الاقوامی مقابلوں کا تجربہ حاصل ہو۔

نوجوان ٹیلنٹ کے لیے اہم موقع
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایونٹس کی مسلسل میزبانی پاکستان میں تائیکوانڈو کے گراس روٹ ڈویلپمنٹ کے لیے بھی اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ عالمی کھلاڑیوں کی پاکستان آمد سے مقامی ایتھلیٹس کو عالمی کھیل کے نئے رجحانات، جدید تکنیک، مسابقتی معیار اور پیشہ ورانہ تربیت کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
ان کے مطابق اگر ایسے ایونٹس کو مستقل بنیادوں پر منعقد کیا جائے اور ان کے ساتھ یوتھ ڈویلپمنٹ، کوچنگ، ریفری تربیت، ٹیلنٹ ہنٹ اور اکیڈمی پروگرامز کو مربوط کیا جائے تو پاکستان مستقبل میں عالمی سطح پر مزید مضبوط تائیکوانڈو ایتھلیٹس پیدا کرسکتا ہے۔

ادارہ جاتی تعاون ناگزیر
چیئرمین پاکستان تائیکوانڈو یونین نے کہا کہ پاکستان میں عالمی معیار کے کھیلوں کے مقابلوں کے مستقل انعقاد کے لیے پاکستان اسپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن، متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں، نجی شعبے اور کھیلوں کی فیڈریشنز کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ایونٹس کے انعقاد کے لیے جدید کھیلوں کی سہولیات، کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے بہتر انتظامات، تربیتی پروگرامز، اسپانسرشپ اور بین الاقوامی سطح کی انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سے پاکستان نہ صرف تائیکوانڈو بلکہ دیگر کھیلوں میں بھی ایک قابلِ اعتماد بین الاقوامی میزبان کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کرسکتا ہے۔

اسپورٹس ڈپلومیسی اور پاکستان کا سافٹ امیج
تائیکوانڈو جیسے اولمپک کھیلوں کے عالمی مقابلے پاکستان کے لیے سافٹ پاور اور اسپورٹس ڈپلومیسی کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ مختلف ممالک کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماہرین کی پاکستان آمد ملک کے بارے میں براہِ راست مثبت تجربہ پیدا کرتی ہے، جو روایتی سفارتی روابط سے آگے بڑھ کر عوامی سطح پر تعلقات مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
کرنل (ر) وسیم جنجوعہ نے ایشیئن تائیکوانڈو یونین، پاکستان اسپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن، اسپانسرز، میڈیا اور تمام متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل حمایت کے بغیر ایسے بڑے بین الاقوامی ایونٹس کا کامیاب انعقاد ممکن نہیں۔
نتیجہ
آٹھواں ٹریٹ ورلڈ تائیکوانڈو پریزیڈنٹ کپ پاکستان کے لیے کھیلوں کے میدان میں ایک اہم موقع ثابت ہوا ہے۔ 38 ممالک کے 869 سے زائد ایتھلیٹس اور آفیشلز کی شرکت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مناسب انتظامات، ادارہ جاتی تعاون اور مسلسل بین الاقوامی روابط کے ذریعے پاکستان عالمی کھیلوں کے بڑے مقابلوں کی میزبانی کا مؤثر مرکز بن سکتا ہے۔ مستقبل میں اگر ان ایونٹس کو نوجوانوں کی تربیت، گراس روٹ ٹیلنٹ اور اسپورٹس انفراسٹرکچر کی ترقی کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو تائیکوانڈو پاکستان کی نوجوانوں کی ترقی، بین الاقوامی تشخص اور اسپورٹس ڈپلومیسی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔